Please enable JavaScript to see daily hadith

اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے ہماری محبت

ہم میں سے ہر شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے اپنی جان سے زیادہ محبت اللہ اور اسکے رسول سے ہے اور کیوں نہ ہو قرآن کتا ہے۔
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْـرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ ِۨ اقْتَـرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَـرْضَوْنَـهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ وَجِهَادٍ فِىْ سَبِيْلِـهٖ فَتَـرَبَّصُوْا حَتّـٰى يَاْتِىَ اللّـٰهُ بِاَمْرِهٖ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْفَاسِقِيْنَ (24)
کہہ دے اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیجے، اور اللہ نافرمانوں کو راستہ نہیں دکھاتا۔(التوبہ – 24)
لیکن جیسے علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا۔
گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا
ہم سب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے اور قرآن آسمانی کتاب ہے قرآن عظیم کتاب ہے لیکن سینکڑوں کتابیں پڑھ لی مگر اس عظیم کتاب کو ایک بار بھی ترجمہ کے ساتھ مکمل نہیں پڑھا۔ پھر ہم کس منہ سے رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ قرآن کو چھوڑنے والے کبھی بھی اللہ کے نبی ﷺ کے فرمانبردار نہیں ہو سکتے کیونکہ انکے خلاف تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرینگے۔
وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ اِنَّ قَوْمِى اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا (30)
اور رسول کہے گا اے میرے رب بے شک میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کر رکھا تھا۔(الفرقان :30)
اور ایک اور مقام پر آیا ہے
اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُـهَا (24)
پھر کیوں قرآن پر غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔(سورت محمد : 24)
پلیز میرے بھائیو اور دوستوں
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (2)
اے ایمان والو! کیو ں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔
كَبُـرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّـٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (3)
اللہ کے نزدیک بڑی نا پسند بات ہے جو کہو اس کو کرو نہیں۔ (الصف : 2-3)

اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا دعویٰ کافی نہیں اللہ پاک عمل کو دیکھتا ہے۔ پلیز مجھ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت کچھ غلط لکھا ہو تو درستگی فرما دیں ورنہ میرے بھائیو آو مل کر اسلام سے رشتہ عملی طور پر مضبوط کرتے ہیں۔
از : صلاح الدین

Author : salahudin khan gorchani

I am Software Engineer ,Wordpress Web Developer and Freelancer

Related Posts

درود کے فوائد و ثمرات

تحریر : ابوسعید حفظ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستیٔ اقدس پرRead More

درود کے فرض ہونے کے مواقع

تحریر: الشیخ غلام مصطفے ظہیر امن پوری حفظ اللہ➊ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلمRead More

سیدنا ابو بکر صدیق ؓ سے محبت کیوں؟

this is a sa تحریر: ابو العباس حافظ شیر محمدسیدنا عمر و بن العاص رضیRead More

Leave a Reply