Please enable JavaScript to see daily hadith

شب برات / لیلۃ القدر کے فضائل و اہمیت

شب برات/لیلۃ القدر کی فضیلت و اہمیت

قرآن مجید میں تقریبا 3 مقامات پر اس رات کا ذکر ہے یہی رات ہے جسے شب برات یعنی چھٹکارے والی رات بھی کہتے ہیں اور شب قدر یعنی تقدیر/ فیصلہ والی رات اور یہ لیلہ مبارکہ بھی ہے۔

۞حمٓ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ أَمۡرٗا مِّنۡ عِندِنَآۚ إِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ

«حٰم اس کتاب روشن کی قسم کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں اسی رات میں تمام حکمت کے کام فیصل کئے جاتے ہیں (یعنی) ہمارے ہاں سے حکم ہو کر۔ بےشک ہم ہی (پیغمبر کو) بھیجتے ہیں (یہ) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ وہ تو سننے والا جاننے والا ہے» [الدخان: 1-6]

کچھ لوگ ان آیات کریمہ کو 15 شعبان پر فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حالانکہ وہ کونسا مہینہ ہے خود قرآن نے بتا دیا۔

شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهۡرَ فَلۡيَصُمۡهُۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلۡعُسۡرَ وَلِتُكۡمِلُواْ ٱلۡعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ

«(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو» [البقرة: 185]

إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡرٞ مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ

«ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں یہ (رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے» [القدر: 1-5]

ویسے تو ہر رات ہی اللہ تعالی کر طرف سےصدا آتی ہے جیسا کہ صحیح البخاری کی ایک حدیث ہے

۝ ابوہریرہ ؓ  سے روایت ہے  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے ، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں ، کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ میں اس کی بخشش کروں ۔]صحیح البخاری حدیث نمبر : 6321[

۝ ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (حصول اجر و ثواب کی نیت) کے ساتھ رکھے ، اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔ اور جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے بھی اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ، سفیان کے ساتھ سلیمان بن کثیر نے بھی اس حدیث کو زہری سے روایت کیا ۔]صحیح البخاری حدیث نمبر : [2014

لیکن صغیرہ گناہ معاف ہونگے جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے۔

۝ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ پانچوں نمازیں اور جمعہ، جمعہ تک اور رمضان، رمضان تک کفارہ ہو جاتے ہیں ان گناہوں کا جو ان کے بیچ میں ہوں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچے۔]صحیح مسلم : 552[

ورنہ تو لوگ کہیں  گے نماز چھوڑ کر کے اگلے رمضان تک نماز بھی معاف ہوگئی ہے۔حالانکہ صحیح مسلم میں حدیث ہے۔

۝ جابر رضی الله عنہ سے اس سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابندے اور شرک یا بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے۔]الترمذی : 2619[

 ۝ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔]صحیح البخاری حدیث نمبر : [2017

۝ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، میں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کا ذکر سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا تھا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر بیس کی صبح کو ہم نے اعتکاف ختم کر دیا۔ اسی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا کہ مجھے شب قدر دکھائی گئی تھی، لیکن پھر بھلا دی گئی، اس لیے اب اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ میں نے (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں کیچڑ، پانی میں سجدہ کر رہا ہوں اور جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اس سال) اعتکاف کیا تھا وہ پھر دوبارہ کریں۔ چنانچہ وہ لوگ مسجد میں دوبارہ آ گئے۔ آسمان میں کہیں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا کہ اچانک بادل آیا اور بارش شروع ہو گئی۔ پھر نماز کی تکبیر ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیچڑ میں سجدہ کیا۔ میں نے خود آپ کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ لگا ہوا دیکھا۔]صحیح البخاری حدیث نمبر : [2036

۝سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جو سال بھر تک جاگے اس کو شب قدر ملے ۔ سیدنا ابی ؓ نے کہا : قسم ہے اس اللہ کی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کہ بے شک شب قدر رمضان میں ہے اور وہ قسم کھاتے تھے اور ان شاء اللہ تعالیٰ نہیں کہتے تھے (مطلب یہ کہ اپنی قسم پر یقین تھا کہ سچی ہے) اور کہتے تھے کہ قسم ہے اللہ کی میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے ؟ وہ وہی رات ہے جس میں ہم کو رسول اللہ ﷺ نے جاگنے کا حکم کیا ۔ وہ ، وہ رات ہے جس کی صبح کو ستائیس تاریخ ہوتی ہے ۔ اور نشانی شب قدر کی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج نکلتا ہے اور اس میں شعاع نہیں ہوتی ۔۔]صحیح مسلم :1785 [

۝سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر کے (تعین کے) بارے میں آگاہ کرنے کے لیے نکلے، (راستے میں کیا دیکھتے ہیں کہ) دو مسلمان آدمی جھگڑ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں تو تم لوگوں کو شب قدر کے بارے میں بتلانے کے لیے نکلا تھا، لیکن فلاں فلاں جھگڑ رہے تھے، اس وجہ سے (اس کی علامتیں یا اس کا تعین) اٹھا لیا گیا، ممکن ہے کہ یہی چیز تمہارے لئے بہتر ہو، اب اس کو ستائیسویں، انتیسویں اور پچیسویں راتوں میں تلاش کرو۔

] السلسلۃ صحیحۃ حدیث نمبر: 847[

سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ٦

«ہم تمہیں پڑھا دیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے(6)» [الأعلى: 6]

۝ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب (رمضان کا) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہبند مضبوط باندھتے (یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔]صحیح البخاری حدیث نمبر :2024[

۝  نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں ۔۔]صحیح البخاری حدیث نمبر :2026[

۝ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔]سنن ابی داوود [2465تخریج الحدیث«‏‏‏‏صحیح البخاری/الاعتکاف 6 (2033)، 7 (2034)، 14 (2041)، 18 (2045)، صحیح مسلم/الاعتکاف 2 (1172)، سنن الترمذی/الصوم 71 (791)، سنن النسائی/المساجد 18 (710)، سنن ابن ماجہ/الصوم 59 (1771)، (تحفة الأشراف: 17930)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف 4 (7)، مسند احمد (6/84، 226) (صحیح ‏‏‏‏

۝ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے بعد مغرب اور اکیلے بیٹھ گئے میں ان کے پاس جا بیٹھا۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھےجس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو گویا آدھی رات تک نفل پڑھتا رہا (یعنی ایسا ثواب پائے گا) اور جس نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی وہ گویا ساری رات نماز پڑھتا رہا۔]صحیح مسلم:1491 [

۝ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صیام رمضان رکھے تو آپ نے ہمیں نماز (تراویح) نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ رمضان کے صرف سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی تہجد پڑھی) یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی۔ پھر جب چھ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، (یعنی تہجد نہیں پڑھی) اور جب پانچ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی تہجد پڑھی) یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی۔ تو ہم نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس رات کے باقی ماندہ حصہ میں بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے (تو بہتر ہوتا)؟ آپ نے فرمایاجس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھا جائے گا، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ مہینے کے صرف تین دن باقی رہ گئے، پھر آپ نے ہمیں ستائیسویں رات کو نماز پڑھائی۔ اور اپنے گھر والوں اور اپنی عورتوں کو بھی بلایا، آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں فلاح کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہوا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے پوچھا: فلاح کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے کہا: سحری ہے۔]سنن ترمذی حدیث نمبر [806

 

 

 

Author : salahudin khan gorchani

I am Software Engineer ,Wordpress Web Developer and Freelancer

Related Posts

Existence of God – Reply to Dan Barker

#Existence_of_GodNo one can deny God. Even atheist they just say we don’t believe in aRead More

Sushant Singh Rajpoot Suicide

ارے مسلمانو! ایک فوت شدہ انسان کو گالیاں دے کر یا برا بھلا کہہ کرRead More

کیا امیر معاویہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا؟

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری نواسئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، گوشئہ بتول ،Read More

Leave a Reply

×

Assalam o Alikum Warahmatullah!

Click one of our representatives below to chat on WhatsApp or send us an email to ms170400726@vu.edu.pk

× How can I help you?