Please enable JavaScript to see daily hadith

مانع حمل گولیوں کا استعمال

 

فتویٰ : دارالافتاءکمیٹی

سوال : شادی شدہ خواتین کے لئے مانع حمل گولیاں استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : کثرت اولاد یا ان پر اخراجات کے خوف کے پیش نظر عورتوں کے لئے مانع حمل گولیوں کا استعمال ناجائز ہے۔ اور اگر عورت کے لئے حمل نقصان دہ ہو یا بچے کی ولادت اپریشن کے بغیر طبی طور پر نہ ہو سکتی ہو یا اس طرح کی کوئی اور ضرورت لاحق ہو تو ایسے حالات میں ایسی گولیوں کا استعمال جائز ہے، ہاں اگر کسی ماہر ڈاکٹر کے ذریعے معلوم ہو کہ ایسی گولیوں کا استعمال کسی اور اعتبار سے نقصان دہ ہے تو حکم تبدیل ہو جائے گا۔

Author : salahudin khan gorchani

I am Software Engineer ,Wordpress Web Developer and Freelancer

Related Posts

آثارِ صحابہ اور مقلدین

تحریر:حافظ زبیر علی زئیالحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ و السلام علیٰ رسولہ الأمین، أما بعد:اسRead More

عقیدہ تقدیر برحق ہے؍مردہ بچے کی نمازِ جنازہ

تحریر:حافظ زبیر علی زئی وعن ابن مسعود قال: حدثنا رسول اللہ ﷺ وھو الصادق المصدوق:Read More

اللہ نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا

وعنہ ، قال: سئل رسول اللہ ﷺ عن ذراري المشرکین، قال : ((اللہ أعلم بماRead More

Leave a Reply