Please enable JavaScript to see daily hadith

Category: توحید و عقائد

توحید و عقائد

 

اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے ہماری محبت

ہم میں سے ہر شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے اپنی جان سے زیادہ محبت اللہ اور اسکے رسول سے ہے اور کیوں نہ ہو قرآن کہتا ہے۔ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْـرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ ِۨ اقْتَـرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَـرْضَوْنَـهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖRead More

اللہ کا تعارف

اللہ کا تعارف

نبی صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب اور حاظر و ناظر نہیں

ایک وسوسہ: شیطان اگر ہر جگہ آکر لوگوں کو بہکا سکتا ہے تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہو سکتے؟   الجواب بعون الوھاب   تمام دنیا کو بہکانے کے لئے ایک ہی شیطان متعین نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہر انسان کے ساتھ جنوں میں سے ایک قرین (ساتھی) پیدا کیا جاتا ہے جو اسے زندگی بھر بہکاتا اور گمراہ کرتا ہے۔   جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:   ” مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ ” ، قَالُوا : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : ” وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ ، فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ  تم میں سے ہر ایک آدمی کے ساتھ اس کا جن ساتھی مقرر کیا گیا ہے صحابہؓ کرام نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی مگر اللہ نے مجھےاس پر مدد فرمائی تو وہ مسلمان ہو گیا پس وہ مجھے نیکی ہی کا حکم کرتا ہے۔   (صحیح مسلم کتاب صفات المنافقین، حدیث 7108)   اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ “ہر انسان کے ساتھ شیطان ہے۔” (مسلم ایضا)   قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد پاک ہے:   قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَٰكِن كَانَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ (سورۃ ق:27)   ترجمہ: (قیامت کے دن) اس شخص کا ساتھی (شیطان) کہے گا “اے ہمارے پروردگار میں نے اسے سرکش نہیں بنایا تھا بلکہ یہ خود دور کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا“   شیطان اعظم (ابلیس) اکیلا یہ کام نہیں کرتا بلکہ وہ دوسرے شیاطین کو اس مقصد کے لئے بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں اور فتنہ میں مبتلا کریں۔   جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ابلیس اپنا تخت پانی کے اوپر بچھاتا ہے پھر اپنی فوجوں (شیاطین) کو حکم دیتا ہے کہ وہ لوگوں میں جاکر انہیں گمراہ کریں اور فتنہ ڈالیں۔ ابلیس کی اس جماعت میں ادنٰی سا شیطان وہ ہے جو انتہا درجے کا فتنہ پرداز ہوتا ہے ان میں اسے ایک شیطان واپس آکر ابلیس سے کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کام کیا وہ کہتا ہے تو نے کچھ نہیں کیا اس کے بعد ایک شیطان آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے ایک شخص کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اسکی بیوی کے درمیان تفرقہ نہ ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سن کر ابلیس اس کو قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تو نے بہت اچھا کام کیا۔ اعمش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ (حدیث کے راوی ) نے یہ الفاظ بھی کہے “کہ ابلیس اسے سینے سے لگا لیتا ہے۔”    (صحیح مسلم ایضا، مشکوۃ المصابیح کتاب الایمان باب فی الوسوسۃ)   اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ اکیلا ابلیس (شیاطن اعظم) یہ سارا کام نہیں کرتا بلکہ اس کے رضاکار شیطان اور لشکریہ کام سرانجام دیتے ہیں، لہذا سوال میں جو دعوٰی کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔   رہا یہ دعوٰی کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناضر ہیں تو یہ دعوٰی بھی قرآن و احادیث کے سراسر خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ توغیب کا علم جانتے تھے اور نہ ہی حاظر و ناظر ہیں۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو جب اور جس وقت چاہا وحی کے زریعے اگاہ فرما دیا اور جب تک وحی نازل نہ ہوتی تو آپ اس بات سے بالکل بے خبر رہتے تھے۔   اللہ تعالٰی کا ارشاد پاک ہے:   قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ( سورۃ الانعام آیت 50)   ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجیے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں (یعنی اللہ کے خزانوں کا مالک میں نہیں ہوں) اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے۔   اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم غیب کی وحی فرما دی اور ساتھ ہی یہ بھی بیان کر دیا کہ آپ صرف وحی کے تابعدار رہیں، وحی آجانے کے بعد ہی آپ غیب کی خبریں دیتے تھے۔ لااعلم مضارع کا صیغہ ہے یعنی میں غیب نہیں جانتا، میں غیب نہیں جانوں گا (مطلب میں نہ تو اب غیب جانتا ہوں اور نہ آئندہ جان سکوں گا) نیز اللہ کے خزانوں کا بھی میں مالک نہیں ہوں، میں گنج بخش نہیں ہوں اور نہ ہی میں نوری (فرشتہ) ہوں علم غیب صرف اور صرف خاصہ رب العالمین ہے۔   اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:     قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ( سورۃ نمل آیت 65)     ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجیے کہ آسمان والوں اور زمین والوں میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔  Read More

دور حاضر کے کلمہ گو مشرکین

ہماری شرکیہ پکار:   1)    بھر دو جھولی میری یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم 2)    کچھ بھی مانگنا ہے در مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگ 3)    سارے نبی تیرے در کے سوالی، شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مختارکل نہیں تھے، یہ صرف اللہRead More

عذابِ قبر اور برزخی زندگی

سوالات: ۱۔        عذابِ قبر سےکیا مراد ہے ؟ اس کا تعلق روح سے ہوتا ہے یا بدن  بھی ملوث ہوتا ہے؟ ۲۔         اگر قبر میں جسم کو بھی عذاب ہوتاہے تو پھر اُخروی عذاب کے کیا معنی ہیں؟ ۳۔ازروئے قرآن زندگیاں دو ہیں، دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی۔ پھر برزخیRead More

مشرکین مکہ اور منکرین عذاب القبر کے عقیدہ میں مماثلت

تحریر: ڈاکٹرابو جابرعبداللہ دامانوی           منکرین عذاب القبر نے اب عذاب قبر کا صاف الفاظ میں نہ صرف انکار کردیا ہے بلکہ اس سلسلہ میں جو صحیح صریح احادیث مروی ہیں ان سب کا بھی انکار کردیا ہے۔ اور اس طرح احادیث صحیحہ کا انکار کرکے وہRead More

دو زندگیاں اور دو موتیں

تحریر:ڈاکٹر ابوجابر عبداللہ دامانوی اللہ ﷻ کا ارشاد ہے : ﴿کَیۡفَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ کُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡیَاکُمۡ ۚ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۸﴾﴾“تم اللہ (کے ایک معبود ہونے) کا کیسے انکار کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندہ کیا ۔ پھر تمہیںRead More

حدیث عود، روح ایک غیر جانبدار تجزیہ

تحریر: حافظ ابویحییٰ نورپوری حفظ اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قبر میں مردے سے سوال و جواب کیے جاتے ہیں تو اس وقت مردے کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : وتعادRead More

کیا رسول اللہ قبر میں درود سنتے ہیں؟

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں درود و سلام سنتے ہیں۔ بعض لوگ تو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطلق طور پر سلام سنتے ہیں، جب کہ بعضRead More

روح کی واپسی اور مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

تحریر: حافظ ابو یحیٰی نور پوری ❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ما من أحد يسلم علي؛ إلا رد الله على روحي حتٰى أرد عليه السلام . ”(میری وفات کے بعد) جب بھی کوئی مسلمان مجھ پرRead More

×

Assalam o Alikum Warahmatullah!

Click one of our representatives below to chat on WhatsApp or send us an email to ms170400726@vu.edu.pk

× How can I help you?